21 اپریل 2011 - 19:30

امریکہ نے مشرق وسطی میں تیل اور اپنے دیگر مفادات کے تحفظ کے لئے عرب عوام کے سروں پر اپنے ایجنٹوں کو مسلط کررکھا ہے۔

ابنا: عرب آن لائن کی رپورٹ کے مطابق تیونس کے سرکاری ٹی وی پر ایسی دستاویزات دکھائی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تیونس کے مفرور صدر بن علی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ تھے۔ اس صہیونی ایجنٹ نے ان دنوں سعودی عرب میں پناہ لے رکھی ہے۔ ادھر سعودی عرب علاقے میں امریکہ نواز عرب ڈکٹیٹروں کو بچانے کی بھر پور تلاش کررہا ہے۔ سعودی عرب نے بحرین کے ڈکٹیٹر کو بچآنے کے لئے وہاں اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں جنھوں نے قرآن مجید کے دسیوں نسخے نذر آتش کئے ہیں، 25 مسجدوں کو شہید کردیا ہے اور تاریخ میں مساجد شہید کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تا ہم سعودی عرب اور اسرائیل اپنی تمام کوششوں کے باوجود مصری فرعون کو عوامی قہر سے نہیں بچا سکے۔ ان دستاویزات کے مطابق بن علی عرب ممالک میں اسرائیلی سلامتی کے مسائل کی حمایت میں کام کرتا رہا ہے۔ شواہد کے مطابق بن علی فلسطینی رہنماؤں کے قتل میں بھی ملوث رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اکثر عرب ممالک کے حکمران امریکی یا اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک فلسطینی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا کیونکہ اگر عرب رہنما سچے مسلمان حکمراں ہوتے تو وہ سر پر کفن باندھ کرفلسطینیوں کی حمایت کرتے لیکن عرب ممالک کے موجودہ حکمرانوں نے کبھی ایسا نہیں کیا بلکہ وہ تو ایران کو بھی فلسطین کے مسئلے میں مداخلت سے سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین ایک عربی مسئلہ ہے لیکن ایران نے عربوں کی اس کوشش کو ناکام بنادیا کیونکہ ایران کی رائے میں فلسطین کا مسئلہ عربی نہیں بلکل اسلامی مسئلہ ہے اور ایران فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھےگا۔ کوئی یہ تو پوچھے کہ صہیونی ایجنٹوں کو حرمین شریفین کی سرزمین میں پناہ کیونکر ملتی ہے؟ کیا یہ پاک اور مقدس سرزمین کا قصور ہے یا پھر اس سرزمین پر مسلط خاندان بھی اسرائیل ہی کا ایجنٹ ہے؟!۔

بشکریہ از مہر خبررساں ایجنسی